ایک دن ایک چھوٹی سی لڑکی نے اپنے دوست کو دیکھ کر کہا: "آج میں شریف بننے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گی۔"
دوست نے حیران ہو کر اس سوال کی وضاحت کی تو لڑکی نے کہا: "میں نے ایک گزرے ہوئے اپنے قدیم دوست سے دشمنی کی اور اس نے مجھے ان مقدس لفظوں کا استعمال کرنے کے لیے کہا جو میری جراحت کرتے ہیں۔ میں نے جھوٹ بول کر اپنی پیر کی اھمیت کم کر دی اور وہاں اس کی بات کا جواب دیا جس کے لیے مجھے فخر تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جو اس کے دل کو ہلا کر رکھتے تھے۔ اس نے میرے سامنے اپنی دکھ بھری کہانی سنائی اور میں نے اپنی غلطی پر پچھتاوا کیا۔"
دوست مسرور ہو کر کہا: "تم نے ایک نیک دلی دیکھ کر اپنی غلطی سمجھی اور فوراً اصلاح کی۔ یہ ایک بڑی بات ہے اور تمہیں مبارک ہو کہ تم نے شریفیت کا راستہ اختیار کیا۔"
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیشہ نیک اخلاقی اصولوں پر عمل کرنا چاہیے اور دوسروں کی مدد کرنے میں ہمیشہ تیز ہونا چاہیے۔ غلطیاں ہم سب کرتے ہیں لیکن اصلاح کو تسلیم کرنا اور اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ایک بڑا کام ہے۔ اس طرح ہم اچھے انسان بن سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کر کے اپنا اصولی اور معاشرتی کردار اچھا بنا سکتے ہیں۔
یہ کہانی ہمیں یہ بھی سبق سکھاتی ہے کہ ہمیشہ کسی کے غم کو سمجھنا اور ان کی مدد کرنا ایک بڑا فضیلت ہے جو ہمیں دوستوں اور معاشرت پر اچھے اثرات چھوڑتی ہے۔
اس لئے ہمیشہ نیکی کرنے کی کوشش کریں اور دوسروں کی مدد کرنے میں ترقی کریں تاکہ ہم ایک بہتر اور بہتر انسان بن سکیں۔